Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / Islamic / جادو کی اصل حقیقت کیا ہے ؟جنات کی حدود آخر کہاں تک ہیں

جادو کی اصل حقیقت کیا ہے ؟جنات کی حدود آخر کہاں تک ہیں

آج کل فلموں ٗ ڈراموں میں جادو اور جنات کو ایک مخصوص انداز میں پیش کیا جاتاہے۔ فلموں ٗڈراموں اور کہانیوں کا ہی کمال ہے کہ ہم میں سے اکثر اس بات کے حامی ہوں گے کہ جنات انسانوں میں حلول کر کے ان سے عجیب و غریب حرکات کرواتے ہیں ۔ حدیث میں بھی ہے کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے

لیکن حلول کرنے کا جو تصور ان فلموں میں عکس بند کر کے دکھایا جاتا ہے وہ مبالغہ اور جھوٹ ہے۔جادو کی تعریف: اگر اللہ تعالیٰ کے طرف سے ہماری سوچ اور نظریات میں محسوس یا غیر محسوس طریقے سے کوئی تبدیلی ہو تو اسے ہدایت کہیں گے لیکن اگر اس کے برعکس کسی بھی سطح پر کفر کے حق میں محسوس یا غیر محسوس طریقے سے ہمارے نظریات اور بالآخر ہمارے افعال کی تبدیلی ۔افعال کی تبدیلی یا تبدیلی کی کوشش جادو کہلائے گی۔جادو کی اقسام: جادو اپنی قسم میں ایک ہی ہےکی ہر قسم میں نتائج غیر محسوس طریقوں سے ہی رونما ہوتے ہیں لیکن پہچان کے لئے اسے دو سادہ مگر بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتاہے۔ اس کی ایک قسم وہ ہے جس میں منتر پڑھے جاتے ہیں اور منتر پڑھنے کے کام میں انسان بھی جنات کی مدد کے لئے اپنی نیت اور ایمان کا حصہ ڈالتے ہیں۔ جو قسم باقاعدہ منتر کے ساتھ ہوتی ہے اسے بامنتر جادو کہتے ہیں جبکہ دوسری قسم کا جادو جنات ہم پر بے منتر کرتے ہیں‘ اسے بے منتر جادو کہتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ اشرف المخلوق ہوتے ہوئے بھی جادو کاخوف ہمیں کپکپا دیتاہے۔جادو کا اصل مقصد کیاہوتاہے: اللہ یا بندوں میں سے کسی کے حقوق کوغصب کرنا ہی جادو کرنے یا کروانے والے کا مقصد ہوتاہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے واقعے پر غور کرنے سے اس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہےکہ جادو کاہو جانا اور جادو کے برے نتائج ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو تو ہوا لیکن نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے حقوق اللہ اور نہ ہی حقوق العباد میں کمی واقع ہوئی۔ جادو کی قسم کوئی بھی ہو شیطان کا اصل ہدف ہمیں حقوق اللہ اورحقوق العباد سے غافل کرنا ہے۔ ملاحظہ ہوں سورہ الاعراف کی آیات 10تا18 ۔ ’’اور ہم ہی نے تم کو ابتداء میں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا‘‘ اللہ نے فرمایا کہ جب میں نے تجھے حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا۔ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیاہے اور اسے مٹی سے بنایاہے۔ فرمایا تو بہشت سے اتر جا۔تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرےلہٰذا تو یہاں سے نکل جا۔ اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا ٹھیک ہے ٗ تجھے مہلت دی جاتی ہے ۔ پھر شیطان نے کہا کہ مجھے تو تو نے ملعون کیا ہی ہے میں بھی تیرے سیدھے رستے پر ان (انسانوں) کو گمراہ کرنے کے لئے بیٹھوں گا پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے ٗ دائیں سے اور بائیں سے آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کوشکرگزار نہیں پائے گا۔ اللہ نے فرمایا یہاں سے نکل جا مردود ۔ جو لوگ ان میں سے تیری پیرویدی

کریں گے‘ میں (ان کو اورتم سب کو) جہنم میں بھر دوں گا۔ جواہم بات ان آیات مبارکہ سے واضح ہو رہی کہ شیطان انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان سیدھے رستے پر بیٹھتا ہے۔ اسلام کی عمومی تعلیمات کے تحت ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ دوقسم کے حقوق پر مشتمل ہے جنہیں ہم حقوق اللہ اورحقوق العباد کے نام سے جانتے ہیں۔کیا انسان جنات کے آگے بے بس ہے؟جنات اور جادو کی حدود کیا ہیں؟شیطان یا جنات محض دل میں خیال ڈالنے اور دھوکا دینے کی حد تک ہی زندگی میں دخل دے سکتاہے۔ خیال میں‘ سوتے میں یا جاگتے میں‘ خاص انداز میں نظر آنا ٗ اس کی آواز سنائی دینا یعنی برائی کی طرف مائل ہونا وغیرہ ‘دخل دینے ہی کی اقسام ہیں ۔ شیطان کا زور اس حد تک ہی ہے۔جنات میں انسانوں سے کہیں زیادہ طاقت تو ہے مگر انسان کو اللہ کا ساتھ اور علم کی طاقت دے کر جنات کو کھلا نہیں چھوڑدیاگیا کہ وہ جو چاہیں جس طرح چاہیں کرتے پھریں‘ اگر ایسا ہوتا تو کائنات کا نظام درہم برہم ہو چکا ہوتا۔ جنات لپٹ اور چمٹ کر ہم سب انسانوں کو کب کا حواس باختہ اور بیمار بنا چکے ہوتے اور ہم انسان صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئے ہوتے۔اس طرح اگر جادو میں اس قدر طاقت ہے تو فرعون کے درباری جادو گر اسے اپنے جنات کی مدد سے گرا کر اس کے مال و متاع پر خود ہی قبضہ کر چکے ہوتے

اوراس طرح انعام و اکرام کے لئے درخواست کرتے اور بھیک نہ مانگتے پھرتے ۔ سورہ الاعراف کی آیات113اور 114 کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں ’’اور جادو گر فرعون کے پاس آ پہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں انعام عطا کیا جائے۔ فرعون نے کہا کہ ہاں ضرور اور میں تمہیں اپنے خاص بندوں میں شامل کر لوں گا‘‘۔آخر فرعون کے دور کے جادوگروں کو یا ان کے قابو میں آئے جنات کو کس چیز نے فرعون کے مال و دولت پر قبضہ کرنے سے روک رکھا تھا؟ جادو گر فرعون سے انعام کی درخواست کیوں کررہے تھے؟ اگر جادو اور جنات زور آور ہیں تو اسرائیل ٗ بھارت ٗ افریقہ اور بنگال کے ماہر جادو گر متحد ہو کر اپنے جادو کے ذریعے دنیا کے مال و دولت پر قبضہ کیوں نہیں کر لیتے۔ جنات کے ذریعے یہ سب کچھ کر لینے میں آخر کس نے روک رکھاہے ؟حقیقت کیاہے؟ جو لوگ سختی سےحقوق اللہ اورحقوق العباد کا خیال رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے آگے شیطان کو بے بس کر دیتاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے میں سختی سے کاربند رہتے تھے۔ اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ جنات کو حقوق اللہ اور حقوق العباد پر سختی سے عمل کر کے ان کی حد میں رکھا جا سکتاہے یا عرف عام میں انہیں قابو کیا جاسکتا ہے۔

رہی یہ بات کہ جنات انسانوں سے لپٹ کر انہیں دیوانہ بنا سکتے ہیں ٗ قابل تسلیم نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید سے صرف یہی ثابت ہوتاہے کہ شیطان صرف خیال ڈالنے یا شک ڈالنے کی حد تک ہی انسان کے ذہن میں مداخلت کرسکتاہے۔اس سے زیادہ نہیں ٗ اس کی دلیل کے طورپر شیطان کے اپنے الفاظ ہیںجو قرآن مجید کی سورۃ ابراہیم کی آیات نمبر22, 21 میں اللہ تعالیٰ نے درج فرمائے ہیں کہ ’’میرا تمہارے اوپر کوئی زور تو نہیں تھا‘ میں نے تو صرف تمہیں آواز دی تھی‘‘ خودا للہ تعالیٰ نے سورہ الناس آیت 5 میں شیطان کے اس محدودا ختیار کے متعلق فرمایا کہ ’’ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتاہے‘‘ جب کہ سورۃ الاعرافآیت200میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اگر شیطان کی طرف سے تمہیں کوئی اکساہٹ محسوس ہو تو اللہ کی پناہ مانگو‘‘ ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’ کہو میرے پروردگار میں شیطان کی اکساہٹوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں‘‘ اور دوسری طرف سورۃ الاعراف آیت201میں فرماتے ہیں ’’جو لوگ پرہیز گار ہیں ان کا حال تو یہ ہوتاہے کہ جب انہیں کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چونک جاتے ہیں اور پھر(انہیں) صحیح راستہ نظر آنے لگتاہے۔‘‘اگریہ اس طرح تسلیم کرلیا جائےکہ شیطان یا جنات انسانوں کو ذہنی اور جسمانی طور سے اس طرح کنٹرول کر سکتے ہیں جیسے ہم ریموٹ کے ذریعے آلات کنٹرول کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان انسانوں کو جہنم میں کیوں ڈالیں گے جب کہ قصورتو جنات کا تھا؟اللہ نے ہمیں غوروفکر کرنے کا حکم دیاہے‘ ہمیں بے سروپاباتوں پر اعتقاد نہیں رکھنا چاہئے‘ ہم اللہ کی مخلوق ہیں اور اس نے ہمیں اشرف بنایا ہےوہی رازق مالک کارساز اور نگہبان ہے۔ ہمیں بس اپنے رب پر کامل یقین رکھنا چاہئے کہ وہ ہمیں بے یارومددگار نہیں چھوڑے گا۔ ہمیں معاشرے میں پھیلے ہوئے جعلی اور شعبدہ باز عاملین سے محتاط رہنا چاہئے جو ہمارے مال کے ساتھ ایمان پر بھی ڈاکا ڈال رہے ہیں۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *